بنگلور 29 جنوری (ایس او نیوز) کووڈ کے معاملات میں کمی درج کرنے کے ساتھے ہی ریاست کرناٹک میں 31 جنوری سے رات کے کرفیو کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 31 جنوری سے ریاست میں کووڈ سے عائد کی گئی زیادہ تر پابندیوں کو ہٹایا جائے گا جس میں روزانہ کا رات کا کرفیو بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ بنگلور میں جہاں اسکولوں کو بند رکھا گیا تھا، اب جسمانی کلاسس دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیر محصول آر اشوک نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ "ہمارے پاس عوام کے لیے اچھی خبر ہے۔ 31 جنوری سے، رات کا کرفیو نہیں ہوگا،" مزید کہا کہ آج سنیچر کو چیف منسٹر بسواراج بومائی نے ماہرین کے ساتھ میٹنگ منعقد کی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
حکومت نے پب، ریستوراں، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی جگہوں پر 50 فیصد لوگوں کے بیٹھنے کی حد کوبھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آر اشوک نے کہا "وہ اب 100 فیصد اپنے کاروباری ادارے کھول سکتے ہیں۔" پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے کہا کہ بنگلورو اربن ضلع کے اسکولوں میں پیر سے فزیکل کلاسز شروع کرسکیں گے جہاں کووڈ کی تیسری لہر کی وجہ سے پہلی سے 9ویں تک کی فزیکل کلاسز روک دی گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اسکولوں میں پیر سے، تمام کلاسز کوویڈ- کے مناسب گائیڈ لائن کے ساتھ شروع ہوں گے۔
بنگلورو کے اسکولوں میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اب دوسرے اضلاع کی طرح ہی ہوگا۔ "اگر کسی اسکول میں کوئی مثبت کیس پایا جاتا ہے، تو صرف اس مخصوص کلاس کو بند کر دیا جائے گا، پورے اسکول کو نہیں۔ البتہ اُس کلاس کے تمام بچوں کا کووڈ ٹیسٹ لیا جائے گا۔ مثبت کیسوں کی کل تعداد پر ڈپٹی کمشنر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ متعلقہ کلاس کو تین یا پانچ دن، کب تک بند رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب بنگلورو میں ڈگری کالجس کو بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آر اشوک نے بتایا کہ ریاست میں جملہ کووڈ کیسوں کی تعداد 4.02 لاکھ ہے۔ ان میں سے نوزائیدہ عمر کے بچوں سے 14 سال تک کی عمر کے بچوں کے کیسز 22,318 ہیں۔ یہ کل کیسز کا 5.5 فیصد ہے۔ ہسپتالوں میں داخل کیسوں کی کل تعداد 6,732 ہے جو کہ 1.6 فیصد ہے۔ ان میں سے، ہسپتال میں 401، یا 1.8 فیصد بچے ہیں۔ کل اموات 146 ہیں جو کہ 0.03 فیصد ہے۔ پوزیٹو کیسس کی شرح جو 33 فیصد کی چوٹی تک پہنچ گئی تھی وہ اب گر کر 20.9 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔
آر اشوک نے بتایا کہ سینما تھیٹروں اور ملٹی پلیکس کامپلیکس میں 50 فیصد لوگوں کو داخل ہونے کااصول جاری رہے گا ، اشوک کے مطابق لوگ ایک بند جگہ پر گھنٹوں اکٹھے بیٹھتے ہیں، جس کو دیکھ کر اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سوئمنگ پول، جم، اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کے لیے بھی 50 فیصد کا اصول برقرار رکھا گیا ہے۔
حکومت نے شادیوں جیسی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا۔ اشوکا نے کہا، "شادیوں کے لیے، ہم کھلی جگہ پر مہمانوں کی حد 200 سے بڑھا کر 300 اور بند جگہ پر 100 سے بڑھا کر 200 کر رہے ہیں۔"
مذہبی عبادت گاہوں میں، ایک وقت میں صرف 50 لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دینے والا موجودہ اصول جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام میلے، ریلیاں، دھرنے، احتجاج، سماجی/مذہبی اجتماعات پر پابندی جاری رہے گی۔
اشوک نے کہا کہ جن سرکاری دفاتر کو 50 فیصد افرادی قوت سے کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا وہ پیر سے سو فیصد حاضری کے ساتھ دفاتر جاسکیں گے۔